Baaghi TV

آبنائے ہرمز بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

More posts