Baaghi TV

چینی سیٹلائٹس نے اردن میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی نقل و حرکت بے نقاب کر دی

چینی سیٹلائٹس کی مدد سے حاصل ہونے والی تصاویر اور معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے خاموشی سے اپنے جدید میزائل دفاعی نظام، تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ بیٹریاں اردن اور قریبی خطے میں منتقل کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق یہ تعیناتی 2026 کے اوائل میں کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی افواج کو ممکنہ خطرات خصوصاً ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن کے موافق السلطی ایئر بیس پر مکمل تھاڈ بیٹری نصب کی گئی ہے، جس میں جدید AN/TPY-2 ریڈار سسٹم بھی شامل ہے، تاہم اس ریڈار کو کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا بھی رہا۔
‎تفصیلات کے مطابق اس تعیناتی میں متعدد تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹمز شامل ہیں، جو خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔
‎دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام نقل و حرکت چینی کمرشل سیٹلائٹس کے ذریعے منظر عام پر آئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب صرف زمین پر نہیں بلکہ خلا میں بھی ایک دوسرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکا، چین اور ایران کے درمیان مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں میزائل ٹیکنالوجی، نگرانی اور خلائی انٹیلی جنس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
‎مزید برآں، اطلاعات کے مطابق کچھ تھاڈ بیٹریاں جنوبی کوریا جیسے دیگر علاقوں سے منتقل کر کے مشرق وسطیٰ لائی گئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکا خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔

More posts