ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس سے عالمی سفارتی حلقوں میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور مذاکراتی عمل میں مسلسل تاخیر نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تعطل کے باعث امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کا مارچ میں طے شدہ دورۂ چین اب مئی تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس دورے کے دوران ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں تجارتی امور، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے جاری تنازع طویل ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوگا جبکہ چین کی سفارتی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق تاخیر سے امریکی قیادت کی عالمی سطح پر ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ بندش کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ امریکا میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نومبر کے انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں امریکا، ایران اور چین کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ہر فیصلہ عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
