ایران میں پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کونسل کی سطح پر ایک اہم تجویز پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز پر “خودمختار کنٹرول” حاصل کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مہر نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک رکن نے اس تجویز کی تصدیق کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ابھی واضح نہیں ہے کہ کون سا ادارہ کرے گا۔ذرائع کے مطابق تہران پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کی ایک شرط ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے عالمی معیشت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، اور اب سخت گیر عناصر، خصوصاً اسلامی انقلابی گارڈز ے بعض حلقے زیادہ بااثر سمجھے جا رہے ہیں۔دوسری جانب نسبتاً معتدل سیاسی شخصیات، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف کا نام بھی لیا جا رہا ہے، مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیانات میں ایران کی موجودہ سیاسی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال میں تہران کو ایک متحدہ مؤقف پیش کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے، جبکہ جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات میں ایک مرکزی نکتہ بنتا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
