اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی فضائیہ سے وابستہ دو انجینئرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں افراد پر حساس فوجی معلومات لیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں انجینئر اشدود کے قریب واقع تل نوف ایئر بیس پر تعینات تھے، جہاں وہ جدید F-15 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال اور تکنیکی امور پر کام کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے دوران ان طیاروں سے متعلق خفیہ ڈیٹا اور تکنیکی معلومات ایران تک پہنچائیں۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور سکیورٹی ادارے مزید تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں مزید افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ معلومات قومی سلامتی کے لیے نہایت حساس نوعیت کی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جدید لڑاکا طیاروں سے متعلق معلومات کا افشا ہونا دفاعی حکمت عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اس حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔
اسرائیل میں جاسوسی کا انکشاف، فضائیہ کے دو انجینئر گرفتار
