آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تلاش کے مشن پر جانے والے امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کو تھائی لینڈ میں بندر کے حملے کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحری جہاز جنوب مشرقی ایشیا میں رکے ہوئے تھے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس چیف اور یو ایس ایس پائینیئر نامی مائن سویپر جہازوں کو اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ تاہم تھائی لینڈ کے شہر پھوکٹ میں قیام کے دوران ایک نیوی الیکٹرانکس ٹیکنیشن پر ساحل کے قریب ایک بندر نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اسے معمولی خراشیں آئیں۔
رپورٹس کے مطابق زخمی اہلکار کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں بہتر علاج کے لیے جاپان کے شہر ساسیبو میں واقع امریکی بحریہ کے فارورڈ بیس منتقل کر دیا گیا۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ اہلکار کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسے احتیاطی تدابیر کے تحت واپس بھیجا گیا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے مائن سویپر جہاز یو ایس ایس چیف کے مشن پر کوئی اثر نہیں پڑا اور آپریشن اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ ان جہازوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانا ہے تاکہ عالمی بحری راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سکیورٹی کے کسی بھی خطرے سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز مشن سے قبل امریکی اہلکار بندر کے حملے میں زخمی
