نئی دہلی: دنیا کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا کو بھارت میں اپنی توقعات کے برعکس سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایلون مسک کی قیادت میں کمپنی نے بھارتی مارکیٹ میں بڑی امیدوں کے ساتھ قدم رکھا، مگر فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی نے حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حال ہی میں کمپنی نے بھارت میں اپنا نیا 6 سیٹر لانگ وہیل بیس ماڈل Tesla Model YL متعارف کرایا ہے، جس کی قیمت تقریباً 62 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ لانچ دراصل کمپنی کی جانب سے “ڈیمیج کنٹرول” کی کوشش ہے، کیونکہ گزشتہ کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔رپورٹس کے مطابق 2025 میں ٹیسلا نے 2500 یونٹس فروخت کرنے کا ہدف رکھا تھا، تاہم کمپنی صرف 227 گاڑیاں ہی فروخت کر سکی۔ ہدف کا 10 فیصد بھی حاصل نہ ہونا کمپنی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ فروخت بڑھانے کے لیے کمپنی کو لاکھوں روپے تک کی رعایتیں بھی دینا پڑیں۔بھارت میں درآمدی ڈیوٹی 70 سے 110 فیصد تک ہونے کے باعث ٹیسلا گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں اور ان کا مقابلہ براہ راست لگژری برانڈز جیسے BMW، Mercedes-Benz اور Volvo سے ہوتا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں ایک اور بڑی رکاوٹ چارجنگ اسٹیشنز کی کمی ہے۔ بھارت میں محدود چارجنگ نیٹ ورک اور Tesla Supercharger کی کم دستیابی صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر طویل سفر کے دوران۔
بھارتی مارکیٹ میں Tata Motors اور Mahindra & Mahindra جیسے مقامی برانڈز کا مضبوط اثر و رسوخ بھی ٹیسلا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ Tata Nexon EV جیسی گاڑیاں نسبتاً سستی اور مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہیں، جس کے باعث صارفین انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ٹیسلا کا سروس نیٹ ورک محدود ہونے کے باعث صارفین کو مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ بھارتی سڑکوں کی حالت اور اسپیڈ بریکرز بھی کم گراؤنڈ کلیئرنس والی گاڑیوں کے لیے مسئلہ بنتے ہیں۔
