Baaghi TV

دہلی ہائی کورٹ کا سنجے کپور کے اثاثوں کو محفوظ کرنے کا حکم

دہلی ہائیکورٹ نے معروف تاجرسنجے کپور کی تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام اثاثوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ حکم سنجے کپور کی تیسری اہلیہ پریا سچدیوا کپور اور انکی دوسری شادی سے ہونے والے بچوں کیان اور سمیرا کپور اور کے درمیان شدید خاندانی تنازع کے پس منظر میں جاری کیا گیا ہے۔بچوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پریا کپور نے سنجے کپور کی وصیت میں جعلسازی کی اور عدالت میں جمع کروائی گئی اثاثوں کی فہرست نامکمل ہے۔ الزام ہے کہ اس فہرست میں مہنگے پولو گھوڑے، قیمتی گھڑیاں (جیسے رولیکس) اور دیگر بیش قیمت اشیاء شامل نہیں کی گئیں۔مزید برآں، بچوں کا کہنا ہے کہ کئی غیر منقولہ جائیدادیں اور قیمتی فن پارے بھی چھپائے گئے ہیں، جو دراصل کپور خاندان کے بڑے اثاثوں کا حصہ ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سنجے کپور کے اثاثے “محفوظ رکھنا ضروری ہے اور انہیں فروخت یا ضائع نہیں کیا جا سکتا”۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پریا کپور کو اثاثے فروخت کرنے سے روک دیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی۔عدالت نے مزید کہا کہ وصیت سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کی ذمہ داری پریا کپور پر عائد ہوتی ہے۔ اگر بعد میں وصیت جعلی ثابت ہوئی تو کارروائی نہ کرنا “ناانصافی” ہوگا۔

یہ معاملہ صرف بیوی اور بچوں تک محدود نہیں بلکہ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور اور بہن بھی اس تنازع کا حصہ ہیں، جس کے دوران سخت بیانات اور الزامات سامنے آ چکے ہیں۔گزشتہ سال نومبر میں بچوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “امیر اولیور ٹوئسٹ” قرار دیا گیا تھا، جو مزید دولت چاہتے ہیں۔

53 سالہ سنجے کپور گزشتہ سال 12 جون کو لندن میں پولو کھیلتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ ابتدائی طور پر موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، تاہم بعد میں برطانوی طبی حکام نے تصدیق کی کہ ان کی موت قدرتی وجوہات دل کی بیماری کے باعث ہوئی۔یہ کیس اب ایک بڑے قانونی اور خاندانی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر آئندہ سماعتوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔

More posts