لاہور ہائیکورٹ میں طلاق اور نان و نفقہ سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک طلاق قانونی طور پر مؤثر نہیں ہو جاتی، بیوی خرچہ لینے کی حقدار رہتی ہے۔
عدالت میں فیصل آباد کے رہائشی سیف اللہ کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت انہیں طلاق کے باوجود اپنی سابقہ اہلیہ کو نان و نفقہ ادا کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیف اللہ نے 2016 میں خورشید بی بی سے شادی کی تھی، تاہم اولاد نہ ہونے کی بنیاد پر انہوں نے دوسری شادی کر لی اور 2025 میں پہلی بیوی کو طلاق دے دی، لہٰذا اب خرچہ ادا کرنے کا حکم ختم کیا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے قانونی اجازت لی گئی تھی۔ عدالت نے اس نکتے پر بھی توجہ دلائی کہ محض زبانی طلاق یا نوٹس دینا کافی نہیں ہوتا۔
جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ جب تک یونین کونسل کے ذریعے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوتا اور عدت کی مدت مکمل نہیں ہو جاتی، اس وقت تک طلاق قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی۔ اس دوران شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے اخراجات برداشت کرے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جسے بعد میں سنایا جائے گا۔ یہ کیس خاندانی قوانین اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔