ملتان کے علاقے ممتاز آباد پھاٹک میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گھر سے خاتون اور اس کے تین کمسن بچوں کی پھندا لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، تاہم شواہد نے معاملے کو مشکوک بنا دیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر اور دیور کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 4 سے 7 سال کے درمیان ہیں۔ شوہر نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے، جس کے بعد تفتیش کا رخ مزید سنگین ہو گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، جس کے بعد ان کی لاشوں کو پھندا لگا کر لٹکایا گیا تاکہ واقعے کو خودکشی ظاہر کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔پولیس نے مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں شوہر، اس کے بھائی اور ایک اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے باریک بینی سے تفتیش جاری ہے اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
