22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 شہری جاں بحق ہوئے۔ اس المناک واقعے کے فوراً بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ یہ الزام تراشی محض ایک بہانہ تھی، جس کے ذریعے خطے میں ایک نئی جنگی فضا پیدا کی گئی۔ 7 مئی کو بھارت نے ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جسے آپریشن سندور کا نام دیا گیا۔ بقولِ بھارت، اس آپریشن کا مقصد پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔ مگر درحقیقت یہ کارروائی شہری آبادی، مذہبی مراکز اور دفاعی تنصیبات پر مشتمل تھی۔
ان کے اہداف میں مریدکے مرکزِ طیبہ، بہاولپور میں جیشِ محمد کا مرکز، اور مظفرآباد کے نواحی علاقے، خصوصاً شوائی نالہ شامل تھے۔ مظفرآباد کے پہاڑوں میں گونجتی ہوئی دھماکوں کی آوازیں رات کے سکوت کو چیر گئیں۔ اسکول بند ہو گئے، امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔میں خود مظفرآباد شہر سے تعلق رکھتی ہوں اور چشم دید گواہ ہوں جب اچانک شوائی نالہ کے علاقے میں بھارت کی جانب سے گولہ باری شروع ہوئی تو پہاڑ لرز اٹھے۔ مگر یہاں کے لوگ ثابت قدمی، ہمت اور حوصلے سے کھڑے رہے۔ وہ بے خوف ہو کر اپنے گھروں میں رہے، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی فوج کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہے۔ یہ منظر کسی بھی قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس سندور کو جلد ہی بیوگی کی چادر اوڑھنا پڑی، جب 10 مئی کو اس کا جواب بنیانِ مرصوص کے نام سے دیا گیا۔ یہ نام محض ایک عسکری اصطلاح نہ تھی، بلکہ قوم کے اتحاد کا اعلان تھا۔
"ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص”
ترجمہ:” بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”
بنیان یعنی عمارت یا دیوار، اور مرصوص یعنی سیسہ پلائی، ایسی مضبوطی جس میں کوئی دراڑ نہ ہو۔ دشمن شاید یہ بھول گیا کہ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو اتحاد، حوصلے اور یقین کی قوت سے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ ناقابلِ تسخیر، ناقابلِ شکست۔ ہم وہ ہیں جو 313 کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو کم ہو کر بھی بھاری پڑتے ہیں۔ ہم خیبر شکن ہیں، وہ عزم رکھتے ہیں جو دروازے اکھاڑ دے۔ ہم بدر کے وارث ہیں، ہم خندق کے محافظ ہیں۔ ہم خالد بن ولید کے سپاہی ہیں، ہم طارق بن زیاد کی جرات رکھتے ہیں، ہم صلاح الدین ایوبی کی غیرت کے امین ہیں۔ مظفرآباد کے پہاڑ جب گونجے تو وہ صرف بارود کی آواز نہ تھی، بلکہ غیرتِ وطن کی صدا تھی۔ آپریشن سندور کے دوران اس خطے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کے لوگوں کے حوصلے اور دفاعی عزم نے یہ واضح کر دیا کہ یہ سرزمین جھکنے والی نہیں۔ ہر گونج کے جواب میں ایک عزم ابھرا، ہر حملے کے مقابل ایک حوصلہ کھڑا ہوا اور پھر جواب آیا، ایسا جواب جو صرف دفاع نہیں بلکہ پیغام تھا۔ سرحد کے اُس پار کی گئی جوابی کارروائی نے دشمن کو حیران کر دیا۔ یہ حکمت، مہارت اور جرات کا ایسا امتزاج تھا جس نے واضح کر دیا کہ ہم صرف اپنے حصار میں محدود نہیں، بلکہ وقت آنے پر دشمن کے میدان میں جا کر بھی اپنی طاقت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ 10 مئی کو فجر کے وقت شروع ہونے والا یہ مرحلہ شام تک جاری رہا۔ پاک فضائیہ نے دشمن کی فضائی برتری کو توڑا، اور زمینی افواج نے سرحدوں پر فولادی دیوار کھڑی کر دی۔ پاکستان نے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 15 ایئربیسز بھی شامل تھیں۔ رافیل جیسے جدید طیارے، جنہیں دنیا کے بہترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، بھی پاکستانی جانبازوں کے عزم کے سامنے بے بس ہو گئے۔ ہماری صفیں جب بنتی ہیں تو صرف لشکر نہیں بنتا، ایک دیوار بنتی ہے ۔ بنیان المرصوص! یہ دیوار صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ عوام اور افواج کے اتحاد سے بنی تھی۔ میڈیا نے قومی بیانیے کو مضبوط کیا، اور سوشل میڈیا پر ہر پاکستانی نے فوج کے لیے دعائیں اور نعرے بلند کیے۔
جدید جنگی سازوسامان بھی اس عزم کے سامنے بے معنی ہو جاتا ہے، جب مقابل ایمان، مہارت اور حوصلے سے ہو۔ پاکستانی جانبازوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ دفاعِ وطن محض ذمہ داری نہیں، یہ ایمان کا حصہ ہے۔ ہر پائلٹ، ہر سپاہی، ہر کمانڈر نے یہ ثابت کیا کہ ہمارا جذبہ دشمن سے کہیں بلند ہے۔ آخرکار عالمی ثالثی کے ذریعے شام کو سیز فائر پر اس کا اختتام ہوا۔ اس دوران دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر جب جنگ مسلط کی جائے تو ہم پوری قوت سے جواب دینا جانتے ہیں۔ اس پورے مرحلے میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ مائیں دعاؤں میں مصروف رہیں، نوجوان جذبے سے لبریز رہے، اور ہر دل ایک ہی صدا دے رہا تھا: ہم ایک ہیں، ہم متحد ہیں۔ ہر گھر میں قومی پرچم لہرایا گیا۔ یہ وہ منظر تھا جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عوام ہے۔
ہم بنیانِ المرصوص ہیں
ہم خیبر شکن ہیں، ہم سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو ٹوٹتی نہیں، جھکتی نہیں، انتشار میں بھی وطن کے نام پر متحد ہو جاتی ہے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے۔ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔
