Baaghi TV

ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر: عظمی نایاب

بنیان المرصوص عربی زبان کا خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار یہ اصطلاح قران مجید سے لی گئی ہے جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے
بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں،

ہم سب بنیان المرصوص ہیں یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان متحد ہوں حق پر چلنا انتہائی دشوار مرحلہ ہے لیکن حق پر رہتے ہوئے باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا مسلمانوں کی ایمانی طاقت ہے اسباب کی پرواہ کیے بغیر طویل لشکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کو پاش پاش کر دینے کا حوصلہ مسلمان میں موجود ہے کیونکہ ہمارا دین ہمیں اتحاد کا درس دیتا ہے محبت کا درس دیتا ہے غزوہ بدر میں مسلمان بہت قلیل تعداد میں دشمن کے سامنے موجود تھے بہت کم ہتھیار لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال اور اس دولت کے ہوتے ہوئے حق کو کوئی نہیں ہرا سکتا

قران مجید میں ارشاد ہے
حق اگیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے کے لیے ہے،
کربلا کے میدان میں اس کی ایک اور مثال پیش کی گئی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی جس کا بول بالا رہے گا جس کا علم ہمیشہ بلند رہے گا بے شمار ہتھیار بھاری نفری طاقت کے غرور میں چور باطل اور ان کے سامنے نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کا اہل و عیال ایک بار پھر ایمان کی طاقت باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ایک ایسی دیوار جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے مستحکم کرتی ہے سہارا دیتی ہے گرنے نہیں دیتی تاریخ گواہ ہے کہ اج بھی حسین رضی اللہ کی قربانی زندہ ہے اور باطل مٹ چکا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخوت کے جذبے میں مسلمان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا تھا یہ بنیان المرصوص ہی تھا کہ ایک بھائی دوسرے کا سہارا بنے
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

جب جب دشمن نے اپنے ناپاک عزائم ہم پر مسلط کرنا چاہے ہماری قوم نے یک جان ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا ہم ہیں بنیان المرصوص ہمارا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ہم ایمان اتحاد محبت یگانگت اور اپنی روایات پر عمل پیرا ہے ہمارا دشمن یہ جان چکا ہو گا کہ ہمیں ہرانا محض اس کا ایک خواب ہی رہ جائے گا ہمارا ایک ایک بچہ جوان اس ملک کا دفاع کرنا اپنا ایمانی تقاضا قرار دیتا ہے دشمن چاہے داخلی ہو یا خارجی ہمیں ہر سطح پر اس کو ہرانا ہے ایک قوم بن کر ہر شر پسندی کا مقابلہ کرنا ہے چاہے وہ میدان جنگ ہو یا قدرتی افات ہمارے ہر جوان اور بچے نے ہر موقع پر یکجا ہو کر ملک کی خدمت کی ہے زلزلہ ہو یا سیلاب ہر ازمائش میں قوم کو تنہا نہیں چھوڑا ہماری مثال اس جسم کی سی ہے کہ جس کا ایک حصہ اگر تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم اس کو محسوس کرتا ہے کیونکہ ہم بنیان المرصوص ہیں

اج کل کے دور میں معرکہ حق کی صورتیں بدل چکی ہیں کردار بدل چکے ہیں اب جنگ میدانوں سے نکل کر فکر کی جنگ ہے اخلاق کی جنگ ہے تعلیم کی جنگ ہے جھوٹ نفرت نہ انصافی کی جنگ ہے ہمیں ہمیشہ کے لیے بنیان المرصوص بننے کی ضرورت ہے نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر نوجوانوں میں ایمان شعور علم اور کردار پیدا ہو جائے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو لیتی ہیں اج کے نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نکلنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی عملی طور پر خدمات انجام دیں اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور اپنے دین کی اصل تعلیمات کو اپنائیں کیونکہ ایک مضبوط قوم صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعلی اخلاق اور اتحاد سے بنتی ہے معرکہ حق کبھی ختم نہیں ہوتا ہر دور میں حق اور باطل نئے انداز میں سامنے اتے رہتے ہیں
شاعر نے کیا خوب کہا ہے

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

ہر دور میں اہل حق کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا اگر اخلاص کے ساتھ اگے بڑھا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی ہم بنیان المصوص ہیں یہ ذہن میں رکھتے ہوئے جب قوم متحد ہوتی ہیں اور حق پر ڈٹ جاتی ہیں اللہ پر یقین رکھتی ہیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہیں ہمیں اپنے اندر صبر برداشت اور محبت کو تشکیل دینا ہوگا اللہ تعالی ہمیں حق کو پہچانے اور اس پر قائم رہنے اور بنیاد المصوص بننے کی توفیق عطا فرمائے امین

More posts