ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ایک نہایت بامعنی اور پُراثر جملہ ہے۔ یہ عربی زبان کے الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں اتحاد، مضبوطی، یکجہتی اور باہمی تعاون کا عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ اس جملے کا مطلب ہے: *“ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہیں۔”* یعنی جب لوگ ایک صف میں کھڑے ہوں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور متحد ہو کر زندگی گزاریں، تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔ اسلام بھی مسلمانوں کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ وہ آپس میں محبت، بھائی چارے اور اتحاد کے ساتھ رہیں۔ جب انسان مل جل کر کام کرتے ہیں تو مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ اتحاد نہ صرف ایک قوم کی طاقت بنتا ہے بلکہ اس کی عزت، ترقی اور خوشحالی کا سبب بھی بنتا ہے۔
اتحاد کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو قومیں متحد رہتی ہیں، وہ ہمیشہ ترقی کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں، جبکہ اختلافات اور انتشار کا شکار قومیں زوال کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے نظم و ضبط، باہمی تعاون اور قومی اتحاد کارفرما ہے۔ اس کے برعکس جہاں لوگ ذاتی مفادات، لسانی اختلافات اور تعصب میں مبتلا ہوں، وہاں امن اور ترقی قائم نہیں رہ سکتی۔ اتحاد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ *“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”* اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اتحاد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے۔ اسلام میں اخوت، ہمدردی اور محبت کا درس اسی لیے دیا گیا تاکہ معاشرے میں امن اور یکجہتی قائم رہے۔
اسلامی تاریخ اتحاد کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ جنگِ بدر، جنگِ احد اور دیگر معرکوں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور وسائل محدود تھے، لیکن ان کے دل ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے بھرپور تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے دشمنوں پر غالب آئے۔ اگر مسلمان آپس میں اختلافات کا شکار ہوتے تو کامیابی ممکن نہ ہوتی۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی مسلمانوں نے اتحاد کی بدولت دنیا کے وسیع علاقوں میں امن، عدل اور انصاف قائم کیا۔
پاکستان بھی اتحاد کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، جان و مال کی قربانی دی، مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ اگر مسلمان متحد نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قوم کو ہمیشہ *“اتحاد، ایمان اور تنظیم”* کا سنہری اصول دیا۔ آج بھی اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی اصل وجہ عدم اتحاد ہے۔ لوگ زبان، نسل، صوبے اور فرقے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ نفرتیں نہ صرف معاشرتی سکون کو تباہ کرتی ہیں بلکہ قومی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اختلافات کو بھلا کر صرف پاکستانی قوم بن کر سوچیں۔ اگر ہم متحد رہیں گے تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر نوجوان اتحاد، محنت اور حب الوطنی کو اپنا شعار بنا لیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نفرت، حسد اور منفی سوچ سے دور رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنی توانائیاں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کریں تو پاکستان ایک عظیم اور مضبوط ملک بن سکتا ہے۔
قدرتی آفات اور مشکل حالات میں پاکستانی قوم کا اتحاد ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سیلاب، زلزلے یا دیگر مشکلات کے وقت لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم میں اتحاد اور ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اپنائیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ *“ہم بنیانِ مرصوص ہیں” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل پیغام ہے۔* یہ ہمیں اتحاد، بھائی چارے، محبت اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم سب ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اسی میں ہے کہ ہم اختلافات کو ختم کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مل جل کر اپنے وطن کی خدمت کریں۔ بلاشبہ اتحاد میں ہی طاقت ہے، اور یہی طاقت قوموں کو کامیابی اور ترقی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
