قرآنِ مجید کی سورۃ الصف کی ایک آیت دل کے کسی گوشے میں جا کر یقین دلاتی ہے
كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ
یعنی وہ ایسے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔
یہ الفاظ محض منظر نہیں پیش کرتے بلکہ ایک ایسی حقیقت بیان کرتے ہیں جِسے ایک مومن قوم اپنے کردار سے زندہ کرتی ہے۔ "بنیانُ مرصوص” وہ دیوار ہے جس کی اینٹیں جدا نہیں ہوتیں، جو ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں، اور مل کر ایسی طاقت بن جاتی ہیں جسے کوئی طوفان ہلا نہیں سکتا۔
یہ صرف جسموں کی صف بندی نہیں بلکہ نیتوں کی پاکیزگی اور مقصد کی یکجائی کا نام ہے۔ یہاں "میں” کی نفی ہوتی ہے اور "ہم” کا آغاز ہوتا ہے۔ جو ایک منتشر ہجوم کو ایک مضبوط امت میں بدل دیتی ہے۔
تاریخِ اسلام اس کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی، وسائل محدود تھے، مگر ان کے درمیان ایسا اتحاد تھا جو انہیں ناقابلِ شکست بنا رہا تھا۔ وہ ایک صف میں، ایک مقصد کے تحت، اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں کھڑے تھے۔ یہی وہ کیفیت تھی جہاں "بنیان مرصوص” ایک عملی حقیقت بن کر سامنے آئی۔
حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ صفوں کی درستی پر زور دیتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی کامیابی صرف قوت میں نہیں، بلکہ نظم، اتحاد اور ترتیب میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
ہم اسی امت کا حصہ ہیں، اور ہم اسی ملک کے وارث ہیں جو "لا الٰہ الا اللہ” کے نام پر حاصل کیا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ہجرتیں کیں، آزمائشوں کا سامنا کیا لیکن وہ بکھرے نہیں، وہ جڑے رہے۔ وہ ایک مضبوط دیوار بنے رہے ، ایک مثالی اور ایک زندہ "بنیان مرصوص”۔
آج بھی یہی ہماری پہچان ہے اور یہی ہماری ضرورت بھی ہے۔
ہم اس وقت حقیقی معنوں میں "بنیانُ مرصوص” بن سکتے ہیں جب ہم اپنے اختلافات کو تقسیم کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھیں، جب ہم اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں، اور جب ہم ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں، نہ کہ بوجھ۔
پاکستان کی ترقی صرف وسائل یا منصوبوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے دلوں کا جڑنا ضروری ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑیں گے، تب ہی ہم وہ دیوار بن سکتے جس کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔
ہر فرد اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر ایک اینٹ کمزور ہو تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے اور اگر ہر اینٹ مضبوط ہو تو دیوار ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں خود کو سنوارنا ہوگا، اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا، اور اپنے تعلق کو دوسروں کے ساتھ بہتر بنانا ہوگا۔ تاکہ
ہم ہجوم نہیں، ایک قوت بنے رہیں۔
ہم الگ الگ نہیں، ایک ہیں۔ ہم صرف ساتھ نہیں کھڑے، بلکہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہیں۔
آئیے اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم واقعی ایک مضبوط دیوار ہیں۔
ہم وہ قوم ہیں جو جڑنا جانتی ہے، سنورنا جانتی ہے، اور آگے بڑھنا جانتی ہے۔
کیونکہ ہم بکھری ہوئی اینٹیں نہیں
ہم بنیان مرصوص ہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم کمزور نہیں، منتشر نہیں بلکہ ہم ایک مضبوط اکائی ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جس کی بنیاد ایمان، اتحاد اور اخوت پر رکھی گئی ہے۔
بنیانِ مرصوص ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔
اسلامی تاریخ میں جب معرکہ بدر ہوا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے۔
پاکستان کی تاریخ میں جب پاکستان وجود میں آیا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے اور "معرکہ حق” ہوا تب بھی دنیا نے دیکھا کہ ہم بنیان مرصوص ہیں۔
اسی اتحاد کی ایک خوبصورت اور مثال ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ جب بھی دنیا کے کسی کونے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ہستی کے احترام کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب بات ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آتی ہے تو امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک صف میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دلوں کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں، زبانوں کے فرق ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان ایک ہی جذبے میں ڈھل جاتے ہیں۔ کوئی مشرق میں کھڑا ہے، کوئی مغرب میں، مگر سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ محبت ہمیں ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ اس وقت امت واقعی بنیان مرصوص کا منظر پیش کرتی ہے۔سیسہ پلائی دیوار کی مانند، جہاں ہر فرد اپنے ایمان، اپنی غیرت اور اپنی محبت کے ساتھ اس دیوار کی ایک مضبوط اینٹ بن جاتا ہے۔ یہ اتحاد اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب معاملہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حرمت کا ہو، تو مسلمان نہ بٹتے ہیں، نہ جھکتے ہیں بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سامنے آتے ہیں۔
اس وقت پوری امت سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو جاتی ہے، نہ کوئی دراڑ، نہ کوئی کمزوری۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے دل اب بھی ایک دھڑکن میں بندھے ہوئے ہیں، اور ہم آج بھی بنیان مرصوص بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ جب ایک امت دل سے جڑ جائے، تو وہ واقعی سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے اور ایسی دیوار کو کوئی طاقت گرا نہیں سکتی۔
یہی ہماری اصل قوت ہے کہ ہم صرف حالات کے دباؤ میں نہیں، بلکہ شعور کی روشنی میں بھی ایک ہو سکتے ہیں۔
جب ہم اپنے ارد گرد خیر کو عام کرتے ہیں، کسی گرتے ہوئے کو سہارا دیتے ہیں، کسی مایوس کو حوصلہ دیتے ہیں، تو دراصل ہم اس مضبوط دیوار کی ایک نئی اینٹ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ خاموش نیکیاں، جو قوموں کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں۔
ہم وہ دیوار ہیں جسے ایمان جوڑتا ہے اور اخلاص مضبوط بناتا ہے۔
