قطر نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
قطری وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اسے سیاسی دباؤ یا علاقائی تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی دورے کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق قطر نے امریکہ کو باور کرایا کہ جنگ یا تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے مفاد کے خلاف ہوگا۔
قطری وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کی جا رہی ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیاسی اور سفارتی حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اس اہم تجارتی بحری راستے کو کسی بھی تنازع میں “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ ترکی ان سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے جن کی قیادت پاکستان کر رہا ہے، تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتے بیانات خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔
قطر کا ایران کو انتباہ، آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال نہ کیا جائے
