پنجاب کے ضلع اٹک کے سرحدی علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گاؤں منکور کے رہائشی 40 سالہ لیاقت علی ایک مشتبہ نوجوان کو روکنے کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ واقعہ گیارہ مئی کی شام دریائے سندھ کے قریب پیش آیا جہاں مقامی افراد معمول کے مطابق اپنے مویشی چرا رہے تھے۔
منکور، تحصیل جنڈ کا ایک سرحدی گاؤں ہے جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ دریا کے دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لیاقت علی اپنے بڑے بھائی نوید علی اور دیگر دیہاتیوں کے ساتھ موجود تھے جب ایک نوجوان تیزی سے خوشحال گڑھ چیک پوسٹ کی طرف دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔
نوید علی نے بتایا کہ نوجوان کی مشکوک حرکات دیکھ کر لیاقت علی فوراً اس کی طرف بڑھے اور راستہ روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق لیاقت علی نے نوجوان کے قریب پہنچ کر دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے روک لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نوجوان کو پنجابی زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ نوید علی کے مطابق اس شخص نے جواب دیا کہ اسے پنجابی نہیں آتی۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق صورتحال کچھ لمحوں میں کشیدہ ہو گئی اور بعد ازاں افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں لیاقت علی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف پایا جا رہا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
مقامی لوگوں نے لیاقت علی کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے علاقے اور لوگوں کی حفاظت کے لیے بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اہلِ علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
اٹک میں مشتبہ نوجوان کو روکنے والا شہری جان کی بازی ہار گیا
