سعودی عرب میں حج 2026 کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دنیا بھر سے عازمینِ حج کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مکہ مکرمہ میں بڑھتے ہوئے رش اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی حکام نے حج ضوابط پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران پاکستانیوں اور افغان باشندوں سمیت 18 غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مکہ ریجن پولیس نے ان افراد کو اقامہ، نسک کارڈ اور حج بریسلیٹ میں جعلسازی کے الزام میں حراست میں لیا۔ گرفتار افراد میں پاکستانی، افغان، سوڈانی، مصری اور یمنی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق بعض افراد جعلی دستاویزات کے ذریعے حدودِ مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ کچھ لوگ بغیر اجازت قیام کے لیے مکہ پہنچے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس غیر ملکیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہو کر وہاں رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹس اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیے۔
اس سے قبل پانچ افغان باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو صحرائی راستے سے پیدل مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق حج سیزن کے دوران غیر قانونی داخلے اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے تمام شہریوں اور غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حج سے متعلق جاری قوانین اور ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ عازمینِ حج کی حفاظت، سکیورٹی اور بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہونے یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ گرفتار تمام افراد کو ابتدائی کارروائی کے بعد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حج ضوابط کی خلاف ورزی، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت 18 غیر ملکی گرفتار
