Baaghi TV

امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

‎امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے خدشات کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں ایک بار پھر بے چینی بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
‎رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 101 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیز فائر کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ یہی خدشات تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
‎دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود سرگرمیوں نے اوپیک ممالک کی پیداوار کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اوپیک کی تیل پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔ یومیہ پیداوار جو پہلے تقریباً 2 کروڑ بیرل تھی، اب کم ہو کر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
‎ذرائع کے مطابق کویت کی تیل پیداوار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں پر پڑیں گے۔
‎اقتصادی مبصرین کے مطابق عالمی منڈی اس وقت انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہی ہے اور سرمایہ کار امریکا ایران تعلقات میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

More posts