Baaghi TV

ایران جنگ کے اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز، پینٹاگون کی خفیہ ای میل لیک

usa

‎ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مالی اور سفارتی سطح پر بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جنگی اخراجات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ پینٹاگون کی ایک خفیہ ای میل لیک ہونے کے بعد نیٹو اتحاد میں بھی نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
‎پینٹاگون حکام کے مطابق صرف دو ہفتے قبل امریکی کانگریس کو ایران جنگ پر تقریباً 25 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ دیا گیا تھا، تاہم اب فوجی سازوسامان کی مرمت، ہتھیاروں کی تبدیلی اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث یہ رقم بڑھ کر 29 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
‎امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی جنگی اخراجات 50 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ امریکی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
‎دوسری جانب ایران جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک خفیہ ای میل منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ای میل میں اسپین کو نیٹو سے باہر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسپین کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب اسپین نے ایران جنگ میں امریکا کی حمایت کرنے سے انکار کیا اور امریکی طیاروں کے لیے اپنا فضائی راستہ بند کر دیا۔ پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ اسپین نے نہ صرف تعاون نہیں کیا بلکہ ایران کے حق میں بیانات بھی دیے۔
‎لیک ہونے والی ای میل میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ امریکا برطانیہ کے فاک لینڈ جزائر پر دعوے سمیت یورپ کے بعض سامراجی معاملات پر اپنی سفارتی حمایت پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکا مستقبل میں بعض اتحادیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کر سکتا ہے۔
‎ای میل میں ترکیہ اور برطانیہ سمیت ان ممالک کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے جنہیں جنگ میں “کمزور اتحادی” قرار دیا گیا۔ تاہم اس دستاویز سے یہ بھی واضح ہوا کہ امریکا فی الحال نیٹو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اتحاد کے اندر اپنے مخالف ممالک کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔

More posts