امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی کوریج پر امریکی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “ملک کا غدار” قرار دے دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ بعض امریکی میڈیا ادارے ایسی رپورٹس نشر کر رہے ہیں جن میں تہران کو عسکری لحاظ سے واشنگٹن سے برتر ظاہر کیا جا رہا ہے، جو ان کے بقول صحافت نہیں بلکہ دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایسی خبریں ایران کو “جھوٹی امید” دے رہی ہیں، حالانکہ ان کے مطابق ایران کو کسی بھی قسم کی امید نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی صدر نے میڈیا پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “یہ امریکی میڈیا بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صرف “ہارے ہوئے، ناشکرے اور احمق لوگ” امریکا کے خلاف دلائل دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ ماضی میں بھی میڈیا کو “فیک نیوز” اور “عوام کا دشمن” قرار دیتے رہے ہیں، تاہم حالیہ بیان کو غیر معمولی طور پر سخت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور امریکا کے ممکنہ کردار پر امریکی میڈیا مسلسل مختلف زاویوں سے رپورٹنگ کر رہا ہے، جس پر وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ حامی حلقے ناراضی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب صحافتی تنظیموں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوریت کا بنیادی ستون ہوتا ہے اور جنگی صورتحال میں مختلف آراء اور حقائق سامنے لانا صحافت کی ذمہ داری ہے۔
ٹرمپ نے جنگی کوریج پر امریکی میڈیا کو “ملک کا غدار” قرار دے دیا
