متحدہ عرب امارات نے فجیرہ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات دوگنا کرنے کے لیے بڑے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا اور عالمی توانائی سپلائی کو مزید محفوظ بنانا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای حکومت نے ابوظبی سے فجیرہ تک نئی آئل پائپ لائن منصوبے کی تعمیر میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس منصوبے کو 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
حکام کے مطابق نئی پائپ لائن آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے میں مدد دے گی، جو اس وقت عالمی سطح پر سب سے حساس بحری گزرگاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔
ابوظبی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ فجیرہ پائپ لائن یومیہ 18 لاکھ بیرل خام تیل سپلائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم نئی توسیع کے بعد اماراتی تیل کی برآمدی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
توانائی ماہرین کے مطابق یو اے ای کا یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی خدشات بڑھ رہے ہیں اور خلیجی خطے میں ایران، امریکا اور دیگر طاقتوں کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فجیرہ بندرگاہ اور متبادل پائپ لائن نیٹ ورک امارات کو عالمی تیل منڈی میں زیادہ محفوظ اور مستحکم پوزیشن فراہم کر سکتے ہیں۔
یو اے ای کا فجیرہ سے تیل برآمدات دوگنا کرنے کا منصوبہ
