Baaghi TV

قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،محمد ناظم الدین

خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکثر پرائیویٹ تعلیمی ادارے عدالت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کررہے ہیں جبکہ محکمہ تعلیم بھی خاموش تماشائی بن گیا ہے جس وجہ سے عوام میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ بچوں کے والدین بھی محکمہ تعلیم کی اس غفلت اور لاپرواہی پر پریشان ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کیلئے عدالت اپنے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اس مقصد کی خاطر انسپکیشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دورے کریں اور عدالتی احکامات سے روگردانی کرنے والے تعلیمی اداروں کی سخت باز پرس کی جائے اور ایسے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے ۔

انھوں نے کہا کہ ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں 2020 میں انٹرا کورٹ اپیل کے دوران جسٹس افضل چوہدری اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پہلی کلاس سے پانچویں تک سرکاری اور تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن اور ترجم القرآن کی تدریس کو یقینی بنانے کے واضح احکامات جاری کیے تھے اور اس فیصلے کے تحت قرآنِ پاک کو نصاب میں بطور لازمی مضمون شامل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں ۔تاہم اس کے باوجود بہت سے تعلیمی ادارے عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے جس پر عدالت نے محکمہ تعلیم کو انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دینے اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ اس طرح سخت عدالتی احکامات کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تدریس کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔اب پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ناظرہ قرآن مجید اور ترجمۃ القرآن کی تدریس کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ۔ صرف 8سے 10فیصد پرائیویٹ تعلیمی ادارے تدریس قرآن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کا فوری نوٹس لے اور قرآن مجید کی تعلیم سے روگردانی کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے فی الفور احکامات جاری کرے

More posts