ایران نے آبنائے ہرمز پر انتظامی اختیار اور بحری ٹریفک کی نگرانی کیلئے “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی اتھارٹی کا باضابطہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی لانچ کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس آبی راستے سے گزرنے والی تمام فائبر آپٹک کیبلز ایران کی نگرانی، اجازت ناموں اور ٹول فیس کے دائرہ اختیار میں آئیں گی۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق آبنائے ہرمز کے نیچے بچھا زیرِ سمندر مواصلاتی نیٹ ورک عالمی مالیاتی نظام کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے روزانہ 10 ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے عالمی مالیاتی لین دین کا ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ اقدام نہ صرف خطے میں اس کی تزویراتی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور توانائی سپلائی کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نئی اتھارٹی قائم کر دی
