قصاص زندگی ہے۔
سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
"اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
"یہ انصاف کا قتل ہے!”
وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
نہیں! ہرگز نہیں!
تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
عمر کی آواز بنیے۔
ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
Justice For Umer
یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!
