متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات پچاس فیصد ہیں۔
ویب ڈیسک کے مطابق انور قرقاش نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں اس حوالے سے کئی اہم مواقع ضائع کر چکا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔
انور قرقاش کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق خطے کے استحکام اور عالمی اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی حل کی طرف بڑھیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بڑی مقدار میں تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں معاہدے کا امکان 50 فیصد
