امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق بڑھتے شکوک و شبہات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جمعے کے روز ایشیائی مارکیٹ میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 2.13 فیصد اضافے کے بعد 104.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.70 فیصد اضافے کے ساتھ 97.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل دونوں بینچ مارکس تقریباً 2 فیصد گر کر دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئے تھے۔ سرمایہ کاروں نے ابتدائی طور پر امریکا ایران مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی امید پر قیمتوں میں کمی دیکھی، تاہم بعد میں مذاکرات سے متعلق متضاد بیانات کے بعد مارکیٹ کا رجحان دوبارہ تبدیل ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، اگرچہ بعض اختلافات کم ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات میں “مثبت اشاروں” کا ذکر کیا، لیکن خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کی پابندی یا رکاوٹ ناقابل قبول ہو گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے چھ ہفتے گزرنے کے باوجود مستقل معاہدے کی جانب کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث عالمی آئل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں مسلسل دباؤ اور عالمی ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی کمپنی ADNOC کے چیف ایگزیکٹو نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی ختم بھی ہو جائے تو آبنائے ہرمز سے مکمل تیل سپلائی بحال ہونے میں 2027 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی آئل مارکیٹ کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر کھلنا ناگزیر ہے، جبکہ سرمایہ کار اب کسی بڑے سفارتی معاہدے یا ممکنہ فوجی کشیدگی کے منتظر ہیں۔
امریکا ایران مذاکرات پر شکوک، تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ
