Baaghi TV


آبنائے ہرمز اور یورینیم تنازع، امریکا ایران مذاکرات میں بڑی رکاوٹ

‎امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے ہیں، تاہم دونوں ممالک اب بھی ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز پر ممکنہ ٹول سسٹم کے معاملے پر شدید اختلافات کا شکار ہیں۔
‎امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں “مثبت اشارے” سامنے آئے ہیں اور معاہدے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول یا ٹول سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسا معاہدہ ناقابلِ قبول ہوگا۔
‎میامی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی آبنائے ہرمز پر ٹول سسٹم کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے جسے کھلا اور آزاد رہنا چاہیے۔
‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، تاہم انہوں نے ان متبادل اقدامات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
‎دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی تازہ تجاویز نے دونوں ممالک کے درمیان بعض اختلافات کم کیے ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق تہران اس وقت امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور ایران کے 14 نکاتی فریم ورک کی بنیاد پر پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
‎ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں مزید پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن جنگی دباؤ اور دھمکیوں سے گریز کرے۔
‎رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں سخت نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
‎اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے لیے ممکنہ ادائیگی نظام پر ہونے والی بات چیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس اہم آبی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

More posts