بھارت میں ایران جنگ کے معاشی اثرات کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی “ویڈ اِن انڈیا” مہم ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حکومت شہریوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ بیرونِ ملک مہنگی شادیوں کے بجائے اپنے ہی ملک میں شادیاں منعقد کریں تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی نے حالیہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مقامات پر شادیوں کا بڑھتا رجحان ملکی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے کیونکہ اس سے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی خرچ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “شادیوں کے لیے بھارت سے زیادہ خوبصورت اور مقدس جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔”یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے بعد عالمی تیل منڈی میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے بھارت جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ بھارت اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد بھارتی روپیہ پانچ فیصد سے زائد کمزور ہو چکا ہے، جس کے بعد حکومت نے عوام سے ایندھن بچانے، گھر سے کام کرنے، مقامی سیاحت کو فروغ دینے اور سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔بھارت دنیا میں سونے کے بڑے خریدار ممالک میں شمار ہوتا ہے اور شادیوں میں سونے کو خوش قسمتی اور خاندانی دولت کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم حکومت اب شہریوں کو ایک سال تک سونے کی خریداری کم کرنے کا مشورہ دے رہی ہے تاکہ درآمدی اخراجات قابو میں رکھے جا سکیں۔
دوسری جانب بھارت کی شادیوں کی صنعت گزشتہ ایک دہائی میں غیر معمولی طور پر پھیلی ہے۔ بالی ووڈ کی چکاچوند، سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات اور ارب پتی خاندانوں کی شاہانہ تقریبات نے اس صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک امریکی سرمایہ کاری بینک کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ویڈنگ انڈسٹری کی مالیت تقریباً 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو خوراک اور کریانہ کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صارف شعبہ بن چکا ہے۔بھارت میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ سے ایک کروڑ شادیاں ہوتی ہیں، جبکہ پرتعیش تقریبات میں کئی دنوں تک جاری رہنے والی رسومات، موسیقی، رقص اور ثقافتی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔
2024 میں بھارت کے امیر ترین کاروباری خاندان امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی شادی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی، جس میں کم کارڈیشین، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ریحانہ سمیت عالمی شخصیات شریک ہوئی تھیں۔ اس سے قبل اداکارہ پریانکا چوپڑا اور امریکی گلوکار نک جونز کی جودھپور میں ہونے والی شاہانہ شادی بھی عالمی میڈیا کی شہ سرخی بنی تھی۔ویڈنگ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارتی جوڑوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک کے بجائے مقامی تاریخی شہروں، محلات اور قلعوں میں شادیاں کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ شوبھانگی سیٹھ نے بتایا کہ وہ ابتدا میں اٹلی کی جھیل کومو میں شادی کا خواب رکھتی تھیں، جہاں مشہور شخصیات شادیاں کر چکی ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے روایتی بھارتی شادی کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے منگیتر اس سال بھارتی شہر جے پورمیں شادی کریں گے، جہاں ہندو اور سکھ روایات کو یکجا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بھارت میں شادی کرنے سے نہ صرف ثقافتی وابستگی برقرار رہتی ہے بلکہ بیرونِ ملک ہونے والے بھاری اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
