Baaghi TV

قطر کے امیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ

iran

ہفتے کے روز امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا دونوں رہنماؤں نے خطے میں تناؤ کم کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا، جب کہ اس دوران خاص طور پر پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی ثالثی پر بھی گفتگو ہوئی۔

گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات ناگزیر ہیں دونوں فریقوں نے سمندری راستوں کے تحفظ، اہم آبی گزرگاہوں کی سلامتی اور عالمی توانائی و سپلائی چین کے استحکام کو بھی اہم قرار دیا، امیرِ قطر نے اس موقع پر تنازعات کے پُرامن حل کے لیے قطر کے عزم کا اعادہ کیا اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی بھرپور کوششیں جاری ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں موجود ہیں اور ان کی ایرانی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جب کہ میڈیا رپورٹس کے بعد ایران نے بھی قطر کے اعلیٰ سطح وفد کی تہران میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ روز رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے بعد قطر کا وفد بھی جمعے کو تہران پہنچ چکا ہے، جس کے بعد قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے بھی ذرائع کے حوالے سے قطری وفد کے تہران کے دورے کی تصدیق کی تھی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اپنے ایک بیان میں بتایا کہ قطری وفد نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے کئی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، جس کی ہم قدر کرتے ہیں تاہم اس وقت صرف پاکستان ہی مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے اہم ملاقات کی ہےعرب میڈیا اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں تیار ہونے والے اس تاریخی معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے اور کامیابی کی صورت میں اسے ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ کا نام دیا جائے گا۔

More posts