ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیشرفت اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت تقریباً 5 ڈالر کمی کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 6 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 97.30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی توقعات کے باعث سامنے آئی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے، جس سے مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف مل سکتا ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب عالمی سرمایہ کار اب ایران امریکا مذاکرات کے حتمی نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں
