Baaghi TV

بھارتی جریدے نےمودی کے زیراثر بھارتی میڈیا کے کردار کو کیا بے نقاب

بھارتی جریدے دی وائر نے بھارتی وزیرِ اعظم مودی کے زیرِ اثر بھارتی میڈیا کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جانبدار اور حکومتی بیانیے کا ترجمان قرار دے دیا ہے۔

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے ایسے میڈیا اداروں کو ترجیح دی ہے جو حکومت سے سخت سوالات کرنے، احتساب کا مطالبہ اٹھانے اور تنقیدی آوازوں کو نمایاں کرنے کے بجائے صرف سرکاری مؤقف کو ہی حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں پیپر لیک جیسے اہم اسکینڈلز اور بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے نوجوان نسل کو “کاکروچ” سے تشبیہ دینے جیسے حساس معاملات بھی مودی حکومت تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکے کیونکہ مرکزی میڈیا نے ان موضوعات پر کھل کر بحث کرنے سے گریز کیا۔

دی وائر کے مطابق وزیرِ اعظم مودی طویل عرصے سے ایسی پریس کانفرنسوں سے اجتناب کرتے آئے ہیں جہاں صحافی حقائق پر مبنی سخت اور غیر آرام دہ سوالات اٹھا سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی میڈیا سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے سیاسی نظریات اور “ہندو راشٹرا” کے تصور کی بھارتی آئین سے مطابقت پر سوالات اٹھا سکے۔بھارتی جریدے نے مزید دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کی جانب سے ٹیلی پرامپٹرز کو چھپانے، بغیر آواز کے ویڈیوز جاری کرنے اور عوامی تاثر کو کنٹرول کرنے جیسے اقدامات نے عوام میں شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے نے جمہوری نگرانی کے بجائے حکومتی بیانیے کو فروغ دینے کا کردار اختیار کر لیا ہے، جس کے باعث آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔

More posts