نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے منفرد لباس اور عوامی انداز سے ایک بار پھر توجہ حاصل کرلی۔
نیویارک شہر کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر سمجھے جانے والے ظہران ممدانی نے برونکس میں یانکی اسٹیڈیم کے قریب سینکڑوں مسلمانوں کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی، جہاں ان کا روایتی لباس سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ظہران ممدانی عام طور پر سادہ اور نفیس سوٹس پہننے کے لیے مشہور ہیں اور اکثر نسبتاً کم قیمت برانڈز کے ملبوسات کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم عید کے موقع پر انہوں نے ایک منفرد کرتا زیب تن کیا جو انگلش فٹبال کلب آرسنل کی جرسی سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا تھا۔نیلے رنگ کے اس خصوصی کرتے پر بجلی کی شکل کے ڈیزائن بنائے گئے تھے جبکہ اطراف میں ایڈیڈاس کی مشہور تین پٹیاں بھی نمایاں تھیں۔ یہ لباس بروکلین انوِنسبلز نامی آرسنل فین کلب کے شریک بانی جیسن اینڈریو نے اپنے درزی کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ جیسن اینڈریو کے مطابق اس ڈیزائن کی بنیاد ان کے خاندان کی سلائی کڑھائی کی روایت اور فٹبال سے محبت پر رکھی گئی۔
تقریب میں شریک دیگر افراد نے بھی روایتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جن میں سفید، سبز اور جامنی رنگوں کے ملبوسات نمایاں تھے، تاہم ممدانی کا منفرد انداز سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
ظہران ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالاضحیٰ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی اور ثابت قدمی کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ “قربانی بوجھ نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے انسان خود کو ایک بڑی ذمہ داری کا حصہ سمجھتا ہے اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر وہ شہر میں اتحاد، یکجہتی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ ہر شہری کو رہائش، خوراک اور بچوں کی دیکھ بھال جیسی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔
اس موقع پر امریکی رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ممدانی کا یہ انداز نہ صرف عیدالاضحیٰ کی اہمیت اجاگر کرنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے نوجوانوں اور کھیلوں کے شائقین کے درمیان ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا ہے
