پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ترقیاتی تجاویز کا دوسرا مسودہ مکمل کر لیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، مقامی حکومتوں اور عوامی سہولیات کے متعدد بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ترقیاتی بجٹ تقریباً 1452 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ صوبے میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
بجٹ تجاویز کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا شعبہ ہوگا، جس کے لیے 303 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس رقم سے مختلف بڑے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جدید سہولیات سے آراستہ اسمارٹ پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
اس کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور لاہور میں ماڈل دیہات کے قیام کو بھی اہم ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
بجٹ مسودے کے مطابق لاہور میں ماڈل ویلیجز کے قیام کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کے لیے 42 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مقامی حکومتوں کے شعبے کے لیے 250 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آئی ٹی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم کے لیے 56 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے منظور ہو جاتے ہیں تو صوبے میں انفراسٹرکچر، عوامی خدمات اور مقامی ترقی کے شعبوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
پنجاب بجٹ 2026-27 میں ترقیاتی منصوبوں پر بڑا فوکس
