عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ سے اہم قانونی ریلیف مل گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن عدالت کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ عدالت کو ہدایت کی ہے کہ کیس کا فیصلہ دو ماہ کے اندر کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق راحت فتح علی خان نے وراثتی جائیداد سے متعلق اپنے کیس میں ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت ہوئی۔
جسٹس سجاد محمود سیٹھی نے کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ مقدمے کا فیصلہ اس کے میرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف تکنیکی بنیادوں پر۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کورٹ فیس جمع نہ ہونے کی بنیاد پر درخواست مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور فریقین کو مکمل سماعت کا حق حاصل ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو دوبارہ میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔
عدالت نے تمام فریقین کو 2 جون کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد نے کورٹ فیس کے معاملے پر راحت فتح علی خان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد گلوکار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی نکات کے بجائے حقائق اور قانونی میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
راحت فتح علی خان کو ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا
