Baaghi TV

ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکی وزیر جنگ

usa

واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی-

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ طے پائے گا وہ ایک اچھا اور مؤثر معاہدہ ہو گا تاہم ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتاامریکا اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اور ضرورت پڑنے پر جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ تہران بخوبی جانتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسے کیا اقدامات کرنا ہوں گے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے ہیں۔

امریکی وزیر جنگ نے میری چینی وزیر دفاع کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جس میں مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی منظوری دیتے وقت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔

انہوں نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن کی دفاعی کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ضرورت سے زیادہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے ہیں انہیں امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک حقیقی دوستی فروغ پا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم کے موقعے پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی، سنگاپور میں منعقدہ اس اہم سیکیورٹی فورم میں تقریباً 45 ممالک کے دفاعی حکام اور سیکیورٹی ماہرین شریک ہوئے پیٹ ہیگستھ نے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیا ن امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں بھارت کا ذکر کیا لیکن میں آسانی سے پاکستان اور ان کرداروں کا بھی ذکر کر سکتا تھا جو فیلڈ مارشل اور وزیراعظم امن مذاکرات میں ادا کر رہے ہیں،میرے خیال میں ایک غیر متوقع پیش رفت اور حقیقی دوستی وہاں فروغ پا رہی ہے، جو نہایت اہم ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں پاک امریکا تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے مارچ 2025 میں پاکستان نے دا عش خراسان کے ایک اہم رکن محمد شریف اللہ کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا جس پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر جنگ بندی میں امریکی ثالثی اور پھر پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔

صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستانی قیادت اور خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی، امریکا اور ایران کے درمیان رواں برس پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا، اسلام آباد کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد مذاکراتی نشستیں ہوئیں جن میں جنگ بند ی اور کشیدگی کے خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق پیٹ ہیگستھ کے حالیہ بیانات پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

More posts