Baaghi TV

آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

iran

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یکم مارچ سے ایران کے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے-

سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی اور جہاز رانی کی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم کرنا کوئی سفارتی رعایت نہیں، بلکہ یہ محض ایک غیر قانونی عمل کا خاتمہ ہوگا جو سرے سے شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے ’خصوصی اقدامات‘ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو صرف ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران اور عمان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک نے خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے ایران اور عمان ایسے طریقہ کار وضع کریں گے جو ایک جانب دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور دوسری جانب عالمی جہاز رانی کے محفوظ تسلسل کی ضمانت بھی فراہم کرے گا۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھااسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صرف اور صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے’اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی کی تفصیلات اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ تجربات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایران اور عمان کی جانب سے مستقبل میں اختیار کیے جانے والے کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا مقصد قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا،مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم اور سخت زبان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران ’یہ کرنا چاہیے‘ یا ’یہ کرنا ہوگا‘ جیسی زبان قبول نہیں کرتا اور اپنے فیصلے صرف اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں روس اور چین کو خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان کر دیا ہے-

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روس اور چین کے جہازوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا اور اس حوالے سے نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مشاورتی اجلاس اہم رہے تاہم موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں آیا یورینیم سے متعلق امور امریکا کے ساتھ جاری رابطوں کا حصہ بھی نہیں ہیں ایران اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

More posts