Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

رات کے سناٹے میں شہر کی ایک گلی کے نکڑ پر چند نوجوان کھڑے تھے۔ ہنسی مذاق جاری تھا، موبائل فونز کی روشنی چہروں پر پڑ رہی تھی اور درمیان میں سگریٹ کا دھواں فضا میں ایسے بکھر رہا تھا جیسے کسی نے اندھیروں کو اور گہرا کر دیا ہو۔ ان میں سے ایک لڑکا خاموش کھڑا تھا۔ اس کی عمر بمشکل سترہ برس ہوگی۔ دوستوں نے ہنستے ہوئے اُس کی طرف سگریٹ بڑھایا اور کہا،
“لو! مرد بنو!”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اُس کے ذہن میں اپنی ماں کا چہرہ آیا، باپ کی محنت یاد آئی، چھوٹے بہن بھائیوں کی معصوم ہنسی گونجی۔ اُس نے سگریٹ لینے کے بجائے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دوست قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، مگر اُس لڑکے نے اسی لمحے ایک جنگ جیت لی تھی؛ اپنے نفس کی جنگ، اپنے مستقبل کی جنگ۔

تمباکو نوشی صرف ایک عادت نہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان سے اُس کی زندگی چھیننے والا خاموش قاتل ہے۔ یہ ابتدا میں دوست لگتی ہے مگر انجام میں انسان کو تنہائی، بیماری اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سگریٹ کو بعض اوقات “فیشن”، “اسٹیٹس” یا “جدید سوچ” کی علامت بنا دیا گیا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک جلتی ہوئی سگریٹ دراصل انسان کی صحت، خوشیوں اور خوابوں کو جلاتی ہے۔

پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر تعلیم، تحقیق، ہنر اور مثبت سوچ کی طرف آئیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ مگر جب یہی نوجوان تمباکو جیسے زہر کا شکار ہو جائیں تو ان کی صلاحیتیں وقت سے پہلے مرجھانے لگتی ہیں۔ سگریٹ صرف پھیپھڑوں میں دھواں نہیں بھرتی بلکہ انسان کے ارادوں، توانائی اور زندگی کے رنگ بھی مدھم کر دیتی ہے۔

اکثر نوجوان دباؤ، تنہائی یا وقتی پریشانی سے بچنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سکون ملتا ہے، مگر یہ سکون ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا شخص سمندر کا پانی پی لے۔ چند لمحوں کی جھوٹی راحت کے بعد نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تمباکو انسان کو جسمانی طور پر کم زور کرنے کے ساتھ ذہنی اور معاشی نقصان بھی دیتا ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم اگر تعلیم، کتابوں، گھر والوں یا کسی مثبت مقصد پر لگائی جائے تو نہ جانے کتنی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا دھواں اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں اڑاتا بلکہ انجانے میں ایک غلط مثال بھی قائم کرتا ہے۔ ایک ماں جب کھانسی سے تڑپتی ہے یا ایک بچہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے یہی زہریلا دھواں موجود ہوتا ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟ ایسا پاکستان جہاں اسپتال بھرے ہوں، نوجوان بیمار ہوں اور خواب ادھورے رہ جائیں؟ یا ایسا پاکستان جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں، کتابیں ہاتھوں میں ہوں، چہرے صحت مند ہوں اور فضائیں تازہ سانسوں سے مہک رہی ہوں؟ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔

آج ضرورت صرف قوانین بنانے کی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ بری صحبت یا نقصان دہ عادتوں کا شکار نہ ہوں۔ اساتذہ صرف نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ میڈیا اگر چاہے تو نوجوانوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور اشتہارات میں سگریٹ کو کشش کے بجائے تباہی کی علامت بنا کر پیش کیا جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

لیکن اصل انقلاب اُس دن آئے گا جب نوجوان خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑائیں گے۔ اصل بہادری یہی ہے کہ انسان برائی کو “نہ” کہنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ دوستوں کے دباؤ میں آکر اپنی صحت تباہ کرنا بہادری نہیں، کم زوری ہے۔ طاقت ور وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔

تصور کریں ایک ایسے پاکستان کا جہاں کالجوں کے باہر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو ہو۔ جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دھواں نہیں بلکہ ہنر ہو۔ جہاں سانس لینا بیماری نہیں، زندگی کی خوشی محسوس ہو۔ ایسا پاکستان صرف خواب نہیں، حقیقت بن سکتا ہے، اگر ہم آج سے آغاز کریں۔

آئیے! ہم سب اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ اپنے دوستوں کو تمباکو سے دور رکھیں، اپنے گھروں کو دھوئیں سے محفوظ بنائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند فضا تحفے میں دیں۔ کیونکہ جب نوجوان محفوظ ہوں گے تو قوم مضبوط ہوگی، اور جب سانسیں پاک ہوں گی تو پاکستان بھی پاکیزہ اور روشن ہوگا۔

More posts