اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اور اس زندگی کو صحت و تندرستی کے ساتھ گزارنا ہر انسان کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے کارخانے، عمارتیں یا سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے تندرست اور باشعور عوام ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک ایسی خاموش وبا کی لپیٹ میں ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ وبا کوئی اور نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہمارے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
اگر ہم اپنے ارد گرد مشاہدہ کریں، تو آج سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں ایک فیشن بن چکی ہے۔ کبھی دور تھا جب بڑوں کے سامنے سگریٹ پینا عیب سمجھا جاتا تھا، لیکن آج گلی محلوں، چائے کے ہوٹلوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے باہر نو عمر لڑکے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی دھواں اڑاتی نظر آتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ شیشہ اور ویپ (Vape) جیسے نئے نشوں نے جنم لے لیا ہے، جنہیں نوجوان یہ سوچ کر اپناتے ہیں کہ شاید یہ نقصان دہ نہیں ہیں یا یہ جدید دور کا فیشن ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، جس کے پیچھے تمباکو بنانے والی کمپنیوں کی کروڑوں روپے کی مارکیٹنگ چھپی ہوئی ہے۔
تمباکو نوشی صرف ایک انسان کی صحت کو برباد نہیں کرتی، بلکہ یہ پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ سگریٹ کا دھواں جب پھیپھڑوں میں جاتا ہے، تو وہ صرف کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریاں ہی پیدا نہیں کرتا، بلکہ گھر کے بجٹ کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ ایک غریب یا مڈل کلاس گھرانے کا فرد جب اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دیتا ہے، تو اس کے بچوں کی تعلیم اور اچھی غذا کا حق چھن جاتا ہے۔
اس سے بھی بڑا المیہ "پیسو اسموکنگ” (Passive Smoking) ہے، یعنی سگریٹ پینے والے کے پاس بیٹھنے والے معصوم بچے اور گھر کے دیگر افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کا شکار ہو کر انھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن کا انہوں نے کبھی گناہ بھی نہیں کیا ہوتا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، کتنے ہی گھروں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں،
کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں سے محروم ہو جاتی ہیں اور کتنے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جس کا اندازہ پیسوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہماری نوجوان نسل، جو اس ملک کا مستقبل ہے، اگر وہ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو جائے گی، تو ملک کی ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
ایک بیمار نسل کبھی ایک مضبوط ملک کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پاکستان کو تمباکو سے پاک کیسے بنا سکتے ہیں؟
یہ کام صرف حکومت کے اکیلے کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ بچے کسی ذہنی دباؤ یا دیکھا دیکھی میں آ کر غلط راستے پر نہ چل پڑیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صرف کتابی علم دینے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں باقاعدگی سے سیمینارز اور لیکچرز منعقد کرنے چاہئیں۔
دوسری اہم ضرورت میڈیا کی طاقت کا درست استعمال ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ پینے کے مناظر کو "بہادری” یا "اسٹائل” کے طور پر دکھانا بالکل بند ہونا چاہیے، کیونکہ نوجوان نسل اپنے پسندیدہ اداکاروں کی نقل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باغی ٹی وی جیسے پلیٹ فارمز کی طرح، ڈیجیٹل میڈیا پر ایسی مہم چلانی چاہیے جو تمباکو نوشی کے بھیانک انجام کو سامنے لائے، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس زہر سے نفرت پیدا ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہوگا۔ پبلک مقامات، پارکوں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر عائد پابندی کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔
تعلیمی اداروں کے ارد گرد تمباکو اور سگریٹ کی دکانوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور سگریٹ پر ٹیکسز اس حد تک بڑھا دیے جائیں کہ یہ عام نوجوان کی پہنچ سے دور ہو جائے۔
آج ہمیں ایک قوم بن کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس خاموش قاتل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں، اپنے محلوں اور اپنے شہروں سے اس دھویں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
زندگی اللّٰہ کی امانت ہے، اسے سگریٹ کے چند کشوں کی نذر کر کے ضائع مت کیجیے۔ آئیں، آج ہی سے عہد کریں کہ ہم خود بھی اس لت سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے، کیونکہ ایک صحت مند نوجوان ہی "تمباکو سے پاک پاکستان” کا ضامن ہے۔ اللّٰہ پاک ہمارے وطن کو اس زہر سے نجات دلائے اور ہمیں ایک تندرست اور مضبوط قوم بنائے، آمین۔
