کسی بھی اچھے معاشرے کی پہچان اس کی ظاہری ترقی، اس کی سڑکوں، عمارتوں یا مضبوط معیشت سے نہیں کی جا سکتی بلکہ لوگوں کی ذہنی اور جسمانی صحت اور فکری بالیدگی کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر انسان ہی کمزور، بیمار اور نشے کی زنجیروں میں جکڑے ہوں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان آج جن بڑے سماجی اور صحت کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں تمباکو نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو خاموشی سے نسلوں کو صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک عادت نہیں ہے بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جو صحت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے تینوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” اسی لیے ایک خواب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی سرویز کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 16 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں، جو کہ بالغ آبادی کا تقریباً 19.9 فیصد بنتا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی بربادی کی کہانی ہے۔ ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اموات کی شرح 91.1 فی ایک لاکھ افراد ہےجو کہ جنوبی ایشیا اور عالمی اوسط دونوں سے زیادہ ہیں۔
تمباکو نوشی کے نقصانات صرف سانس کی بیماریوں یا پھیپھڑوں کے کینسر تک محدود نہیں۔ یہ دل کے امراض، فالج، منہ اور گلے کے کینسر اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا بھی بڑا سبب ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں ایک بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک کا ہوتا ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں صحت کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور تمباکو نوشی اس بوجھ کو مزید بڑھا رہی ہے۔
معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.4 فیصد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور پیداواری نقصان پر خرچ کرتا ہے۔ اگر اسے سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ اربوں روپے بنتے ہیں جو صحت کے نظام، علاج معالجے اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
آج کل سگریٹ، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کو بعض اوقات فیشن اور اسٹیٹس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد محض تجسس یا دوستوں کے دباؤ میں آ کر اس عادت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک بار یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔اگر ہم سماجی سطح پر دیکھیں تو تمباکو نوشی صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے گھرانے کو متاثر کرتی ہے۔ ایک سگریٹ نوش نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے اردگرد موجود بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ گھر کا معاشی بجٹ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ محدود آمدنی کا ایک حصہ تمباکو پر خرچ ہو جاتا ہے۔ یوں یہ عادت ایک خاموش معاشی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا گیا ہے۔ جب جدید طب یہ ثابت کر چکی ہے کہ تمباکو نوشی انسانی جان کے لیے نقصان دہ ہے تو اسے محض ایک عادت سمجھنا درست نہیں رہتا۔ یہ دراصل اپنی اور دوسروں کی صحت کے ساتھ ایک
سنگین غفلت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان کیسے ممکن ہے؟
اس کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد سب سے اہم ہے۔ پاکستان میں تمباکوکنٹرول کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ان کے اثرات محدود رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ سگریٹ کی فروخت پر سخت نگرانی کی جائے، کم عمر افراد کو تمباکو فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہو اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے مراکز ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر قائم کیے جائیں جہاں لوگوں کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔
میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں نہایت اہم ہے۔ ٹی وی، فلمیں اور سوشل میڈیا اگر سگریٹ نوشی کو ”اسٹائل“ کے طور پر دکھائیں گے تو نوجوان متاثر ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر آگاہی مہمات چلائی جائیں، حقیقی کہانیاں دکھائی جائیں اور نقصانات کو واضح کیا جائے تو سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔تعلیمی ادارے اس تبدیلی کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام، ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں تو نوجوان نسل کو شروع ہی میں اس عادت سے بچایا جا سکتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں اور خود ایک مثال قائم کریں۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی عزم کا نام ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک استاد، ایک والد، ایک ڈاکٹر، ایک صحافی اور ایک طالب علم سب اس تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہوگا، معاشی نقصان بڑھے گا اور نئی نسلیں بیماریوں میں جکڑ جائیں گی۔ لیکن اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا تووہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں سانسیں، ماحول اور آب و ہوا صاف ستھری ہوگی۔ زندگی صحت مند ہوگی اور آنے والی نسلیں ایک روشن اور محفوظ ملک میں پروان چڑھیں گی۔
