Baaghi TV

حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ

‎برطانیہ کی وزارت داخلہ نے معروف آن لائن سیاسی مبصرین حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ کر دی ہے، جس کے باعث دونوں شخصیات لندن میں ہونے والی ایس ایکس ایس ڈبلیو کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔
‎حسن پائیکر، جو ٹوئچ پر 30 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے معروف اسٹریمر ہیں، کانفرنس میں "امریکی بائیں بازو نے انٹرنیٹ کی زبان کیسے سیکھی” کے موضوع پر ایک پینل میں شرکت کرنے والے تھے۔ دوسری جانب ان کے چچا جینک ایوغر، جو آن لائن نیوز پروگرام "دی ینگ ٹرکس” کے میزبان ہیں، "ٹیکنو فیوڈل ازم آ چکا ہے، اصل حکمران کون ہیں؟” کے عنوان سے خطاب کرنے والے تھے۔
‎دونوں شخصیات 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کے ناقدین کے طور پر نمایاں رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر غزہ میں ہونے والی انسانی صورتحال پر مسلسل اظہارِ خیال کیا اور جنگ کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔
‎برطانوی وزارت داخلہ کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) منسوخ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ ان کی برطانیہ میں موجودگی "عوامی مفاد کے لیے موزوں نہیں” سمجھی گئی۔
‎وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی سفری اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد برطانوی معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
‎دوسری جانب جینک ایوغر نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسے "دباؤ اور پابندی” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا، حالانکہ وہ لندن اور آکسفورڈ میں مختلف تقریبات سے خطاب کرنے والے تھے۔
‎یہ فیصلہ آزادی اظہار، سیاسی آراء اور سفری پابندیوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حامی حلقے بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

More posts