سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں ایک 19 سالہ حاملہ خاتون کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش مبینہ طور پر قتل کے بعد دریائے سندھ میں پھینک دی گئی، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ آندل سندرانی کے علاقے میں چند روز قبل پیش آیا، تاہم اس کی اطلاع بعد میں موصول ہوئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو دورانِ گشت ایک مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ حمیدان نامی خاتون، جن کی شادی خادم نامی شخص سے ہوئی تھی، کو مبینہ طور پر "کاروکاری” کے الزام میں قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون پر ایک شخص کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق الزام ہے کہ خاتون کو ان کے شوہر اور دیگر رشتہ دار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں دریائے سندھ کے کنارے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا اور لاش دریا میں پھینک دی گئی۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ حاملہ تھیں اور ان کی ابھی کوئی اولاد نہیں تھی۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں نے بھی اس نوعیت کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مدعی کے بیان کے مطابق پولیس نے لاش کی تلاش کے لیے کارروائی کی، تاہم دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے تاحال لاش برآمد نہیں ہو سکی۔ تلاش کا عمل جاری ہے اور مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن تمام ملزمان فی الحال مفرور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
گھوٹکی میں حاملہ خاتون غیرت کے نام پر قتل
