بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے بجٹ کی منظوری کے معاملے پر پارٹی رہنماؤں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک موقع پر جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کا ذکر کیا تو علیمہ خان نے فوری طور پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بجٹ منظوری کی جلدی کیوں کی جا رہی ہے اور اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ بجٹ سے متعلق امور ان کے ساتھ زیر بحث لائے جائیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ بھی بجٹ کی منظوری سے قبل انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ اہم مالی اور سیاسی معاملات پر ان کی رائے حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بانی کو سیاسی اور انتظامی معاملات سے الگ رکھنا مناسب نہیں اور انہیں اہم فیصلوں کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول پارٹی کارکنان اور رہنما بھی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو موجودہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا رکھا گیا ہے، جو ان کے مطابق غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے ملاقاتوں کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے اور انہیں اپنے قانونی اور سیاسی حقوق استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں مصروف ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اور پارٹی امور کے حوالے سے یہ معاملہ تحریک انصاف کے اندرونی معاملات میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی سرگرمیوں اور بجٹ کی تیاریوں پر مختلف حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
علیمہ خان کی بجٹ منظوری پر اعتراض، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ
