ہوائی سفر کے دوران نشے کی حالت میں عملے کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے مسافروں کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ برطانیہ میں زیر غور منصوبے کے تحت ایسے افراد پر فضائی سفر کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے تاکہ پروازوں کے دوران عملے اور دیگر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں بعض پروازوں کے دوران نشے میں دھت مسافروں کی جانب سے فضائی میزبانوں اور دیگر عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد حکام نے سخت پالیسی متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت بدتمیزی، تشدد یا سنگین ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو ایک قومی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں اس فہرست میں شامل افراد کی معلومات مختلف ایئر لائنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ انہیں مستقبل کی پروازوں میں سفر کی اجازت نہ دی جا سکے۔
فی الحال مختلف ایئر لائنز اپنے طور پر ایسے مسافروں پر پابندی عائد کر سکتی ہیں، تاہم سخت ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے باعث ایک ایئر لائن دوسرے ادارے کے ساتھ مسافروں کا ریکارڈ شیئر نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کمپنی کی جانب سے پابندی کے باوجود بعض افراد دوسری ایئر لائن کے ذریعے سفر جاری رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئی تجاویز کا مقصد پروازوں کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار اور خطرناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ ہونے والے ایک عوامی سروے میں تقریباً 75 فیصد افراد نے ایسے مسافروں کے خلاف سخت پابندیوں کی حمایت کی۔ عوام کی بڑی تعداد کا مؤقف تھا کہ فضائی سفر کو محفوظ اور پُرسکون بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
اس کے علاوہ معروف ایئر لائن ریان ایئر کے سربراہ مائیکل اولیری کی جانب سے پروازوں سے قبل اور دورانِ سفر الکوحل کی فروخت اور استعمال پر مشروط پابندی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات نافذ ہو گئے تو فضائی سفر کے دوران نظم و ضبط اور مسافروں کی حفاظت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
بدتمیز مسافروں پر سفری پابندی لگانے کی تجویز
