Baaghi TV


امریکا میں منشیات اسمگلنگ کی خفیہ سرنگ بے نقاب

‎امریکی حکام نے میکسیکو اور امریکا کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی ایک جدید اور خفیہ سرنگ کا سراغ لگا لیا ہے۔ یہ سرنگ میکسیکو کے سرحدی شہر تیجوانا کو امریکی شہر سان ڈیاگو سے ملاتی تھی اور اسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی جانب سے بڑے پیمانے پر منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
‎امریکی محکمہ داخلی سلامتی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران تقریباً 1935 فٹ طویل سرنگ دریافت کی گئی۔ حکام کے مطابق سرنگ جدید سہولیات سے آراستہ تھی، جن میں بجلی، ہوا کی نکاسی کا نظام، مضبوط دیواریں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے ریل ٹریک شامل تھے۔
‎تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سان ڈیاگو میں سرنگ کا داخلی راستہ ایک بظاہر عام رعایتی اسٹور کے نیچے موجود تھا، جہاں لفٹ کے ذریعے زیر زمین راستے تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔ حکام نے کئی ماہ تک نگرانی کے بعد اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی۔
‎امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ٹن سے زائد کوکین برآمد کی گئی جس کی مالیت تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ چار افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور تقسیم کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
‎حکام کے مطابق تحقیقات دسمبر 2025 میں شروع ہوئی تھیں جب مشتبہ اسٹور کی غیر معمولی سرگرمیوں نے سیکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کی۔ نگرانی کے دوران دیکھا گیا کہ وہاں گاہکوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی، جبکہ بعض افراد بار بار خالی سوٹ کیس اور دیگر سامان لے کر سرحدی علاقوں کے درمیان سفر کرتے دکھائی دیے۔
‎بعد ازاں ایجنٹس نے مشتبہ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور ایک کارروائی کے دوران متعدد گاڑیوں سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد کیں۔ اس کے بعد عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کر کے اسٹور کی تلاشی لی گئی، جہاں سے سرنگ کا خفیہ راستہ دریافت ہوا۔
‎امریکی حکام کے مطابق سرنگ تقریباً 55 فٹ گہرائی میں تعمیر کی گئی تھی اور سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں فٹ تک پھیلی ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سرنگ کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری، جدید انجینئرنگ اور طویل منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔
‎گرفتار ملزمان میں دو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے رہائشی اور دو میکسیکو کے شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔

More posts