فیری میڈوز کے قریب پیش آنے والے المناک جیپ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو سیاحوں کے ورثاء کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے، جبکہ حادثے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود متعلقہ خاندانوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
اس افسوسناک حادثے میں مجموعی طور پر سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ اور اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور ان کے ورثاء کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے، تاہم دو افراد کی شناخت یا ان کے اہل خانہ تک رسائی اب تک ممکن نہیں بن سکی۔
دونوں نامعلوم افراد کی میتیں آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں محفوظ رکھی گئی ہیں جہاں انتظامیہ کی جانب سے ورثاء کی تلاش کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شناخت اور رابطے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے تاکہ میتوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق اگر آئندہ روز تک دونوں جاں بحق افراد کے ورثاء سے رابطہ قائم نہ ہو سکا تو ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں اسلامی اصولوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق دونوں میتوں کی تدفین چلاس شہر میں کر دی جائے گی۔ حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تدفین سے قبل اہل خانہ تک رسائی حاصل ہو جائے گی تاکہ آخری رسومات ان کی موجودگی میں ادا کی جا سکیں۔
فیری میڈوز پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال ملک بھر اور بیرون ملک سے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ حالیہ حادثے نے علاقے میں آنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئی تھیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم سات افراد جانبر نہ ہو سکے۔
مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے عزیز و اقارب فیری میڈوز کے سفر پر گئے تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تو فوری طور پر آر ایچ کیو ہسپتال چلاس یا ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
فیری میڈوز حادثہ، دو جاں بحق سیاحوں کے ورثاء تاحال لاپتا
