مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں سکیورٹی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور خلیجی خطے میں حالیہ واقعات نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر حملوں کی اطلاعات اور امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم کے جنوبی علاقوں میں کارروائیوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطہ عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی عسکری یا سیاسی کشیدگی فوری طور پر خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ مارکیٹ کے لیے کسی حد تک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید نہیں بڑھتی تو برینٹ خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑتا ہے، خصوصاً ان ممالک پر جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔
برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
