اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی اور سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہری فی الحال اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔ ان کے بیان نے جنگ بندی کے باوجود خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی بفر زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق فوج ان علاقوں میں تعینات رہے گی جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
اسرائیل کاٹز نے خاص طور پر بیفورٹ کیسل کے علاقے کا ذکر کیا، جو تقریباً 900 سال قدیم تاریخی قلعہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں اس مقام پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور اب اسے سیکیورٹی بفر زون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان امن کو فروغ دینا ہے۔
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے میں مختلف شرائط شامل ہیں، جن میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک سیکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، فوج اپنی پوزیشنز برقرار رکھے گی۔
دوسری جانب لبنان میں مختلف حلقے اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود زمینی کارروائیوں اور فوجی موجودگی کے اعلانات خطے میں امن کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے اس کی شرائط پر مکمل عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی پر ہوگا۔ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین پر تحمل اور مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دے رہی ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
