امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان میں منظور ہونے والی اس قرارداد پر شدید تنقید کی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدارتی اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو "بے معنی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایوان نمائندگان میں ہونے والے ووٹ میں چار ریپبلکن ارکان اور تمام ڈیموکریٹس نے ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ جب سفارتی کوششیں جاری ہوں اور اہم پیش رفت متوقع ہو تو اس قسم کی سیاسی کارروائیاں قومی مفادات کے خلاف تصور کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے سیاسی مخالفت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس قسم کے اقدامات امریکا کے مذاکراتی مؤقف کو کمزور کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس کا مقصد صدر کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں تمام ڈیموکریٹس کے علاوہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا تھا۔
یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ امریکی قانون ساز ادارہ صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ قرارداد ابھی امریکی سینیٹ سے منظور ہونا باقی ہے، جہاں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قرارداد سینیٹ سے منظور بھی ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کانگریس کو صدارتی ویٹو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جو حاصل کرنا آسان نہیں سمجھا جا رہا۔
ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق قرارداد کو بے معنی قرار دے دیا
