Baaghi TV


امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں، منجمد فنڈز پر اختلاف برقرار

‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کا معاملہ اب بھی حتمی اتفاقِ رائے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ کس طریقہ کار کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ یہ معاملہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سب سے پیچیدہ اور حساس موضوعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
‎ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ مجوزہ معاہدے کے متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، لیکن منجمد اثاثوں کے اجرا، ان کے استعمال اور تقسیم کے طریقہ کار پر دونوں فریق اب بھی مشاورت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ حتمی معاہدے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
‎مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ اختلافات کو دور کر کے باضابطہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
‎حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران جلد کسی جامع سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سیاسی اور اقتصادی تنازعات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
‎ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے فریقوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل ایران کے کسی بھی منجمد فنڈ کی رہائی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام شرائط کو حتمی شکل دیے بغیر مالی معاملات پر عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے۔
‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ منجمد فنڈز کے معاملے پر اختلافات کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا ایک مثبت اشارہ ہے اور اگر باقی رکاوٹیں دور ہو گئیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

More posts