جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حیثیت ختم کرکے انہیں نجی شعبے کو دے رہی ہے۔ جو اسکول تمہارے اپنے انتظام میں چل رہے ہیں، وہ تم سے چلائے نہیں جا رہے اور دوسری طرف دینی مدارس جو مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں اپنے بل بوتے پر بہترین کام کر رہے ہیں، تم انہیں زبردستی سرکاری تحویل میں لانا چاہتے ہو۔
پشین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس کی طرف دیکھنے سے پہلے اسکولوں، کالجوں اور وہاں سے فارغ تحصیل بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے اپنی عبرتناک ناکامیاں تو چھپائے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ مدارس والے فارم پر کریں تاکہ کوئی دہشت گرد مدرسے میں نہ آ جائے۔ کیا دہشت گرد یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز، کالجوں اور اسکولوں سے نہیں پکڑے گئے؟ جب یونیورسٹیوں سے دہشت گرد پکڑے گئے اور وہاں سے لاشیں نکلیں، تب تو تم نے وہاں کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن سارا دباؤ صرف اور صرف دینی مدارس پر ڈالا جا رہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم دینی مدارس کی خیر خواہی میں یہ اقدامات نہیں کر رہے، بلکہ تم امریکہ اور مغرب کی اندھی پیروی میں یہ سب کچھ کر رہے ہو۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں اور مختلف لابیوں نے اس پر کام شروع کیا، لیکن الحمدللہ جمیعت علمائے اسلام نے کراچی میں پہلا ملین مارچ کیا اور پھر ملک بھر میں تحریک چلا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو پاکستان میں شکست دے دی۔ ِاسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک ہونا ہوگا پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اصل مسئلہ حکمرانوں کے عزم اور ان کی قوتِ ارادی کا ہے جو کہ انتہائی کمزور ہے؛ ہمارے حکمران کمزور ہیں لیکن پاکستان کمزور نہیں۔ ان حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے آگے بڑھیں گے، عالمی استعمار کے خلاف آواز بنیں گے یا مغرب کے جبر کے خلاف لڑیں گے، بالکل فضول ہے کیونکہ ان سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حساس معاملے پر ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی ہنگامہ برپا ہوا اور پھر مجھے خود سپریم کورٹ میں بلایا گیا۔ ہماری اصولی موقف کی بدولت چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے عدالت کو کہا اور جس طرح ہم نے لکھوایا، بالکل وہی فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیا گیا، جو ہماری نظریاتی فتح ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ کون سی عقل ہے اور کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند۔ یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ کہتے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں دہشتگردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہم سب پاکستانی ہیں، معاملات کو ٹھیک کرو اور اس قوم کے افراد کو مطمئن کرو۔ یہ کس قسم کا الیکشن تھا جہاں بدترین دھاندلی کر کے اپنی من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟ سندھ کی اسمبلی جس طرح بنائی گئی اور پنجاب کی اسمبلی جس طرح وجود میں آئی، یہ ہمارے ملک کے پورے سیاسی نظام کے اوپر ایک بڑا داغ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو براہ راست مخاطب کرکے کہتا ہوں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کا متفقہ آئین بنا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے اگر اس آئین کو مسخ کیا جا رہا ہے، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا آپ واقعی ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چل رہے ہیں؟ آج جب ہم اس اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کیوں خاموش ہے اور کس بات کی کمزوری دکھا رہی ہے؟ ہم تو صوبوں کے حقوق کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر آپ کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سودے بازی کر رہے ہیں؟ جمیعت اس آئین کی حفاظت آخری دم تک کرے گی۔
